آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
4 سینیٹرز کے نوٹیفکیشن روکنے کاحکم، دہری شہریت کا الزام، سپریم کورٹ کی کارروائی

اسلام آباد( رپورٹ :رانا مسعود حسین ) سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اعلیٰ سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے نومنتخب سینیٹر چوہدری سرور او رپاکستان مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب سینیٹرز ہارون اختر خان، نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کو مبینہ طور پر دہری شہریت کا حامل ہونے کی بنا پرنوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ کیس کی آئندہ سماعت پر عدالت میں بیان حلفی پیش کریں کہ وہ صرف اور صرف پاکستان کی شہریت کے حامل ہیں،فاضل عدالت نے الیکشن کمیشن کو تاحکم ثانی انکی کامیابی کے نوٹیفکیشن روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 8مارچ کو سپریم کورٹ کی لاہور برانچ رجسٹری میں مقرر کردی، جبکہ ملک بھر کے سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق تصدیق کیلئے ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں چیئرمین نادرا، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور ممبر ایف بی آر پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 26 مارچ

تک ملتوی کردی۔ فاضل عدالت نے نو منتخب سینیٹرز کی غیر ملکی شہریت چھوڑنے سے متعلق سیکرٹری الیکشن کمیشن کے موقف سے اتفاق نہیں کیا۔چیف جسٹس نے سیکرٹری الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ بتایا جائے دہری شہریت کے حامل نومنتخب سینیٹرز کی آئینی پوزیشن کیا ہوگی؟ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ پنجاب 64،کے پی18،سندھ 5، بلوچستان 8،آزاد کشمیر 28اور گلگت و بلتستان میں ایک افسر دہری شہریت کا حامل ہیں۔ چیف جسٹس،میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے س پیر کواز خود نوٹس کیس کی سماعت کی توفاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا کے ذریعے معلوم ہواہے کہ حالیہ انتخابات میں منتخب ہونیوالے کچھ سینیٹرز بھی دہری شہریت کے حامل ہیں۔ انہوںنے سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کو روسٹرم پر بلا کر اس حوالے سے استفسار کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ہمارے پاس 6 امیدواروں کی فہرست آئی تھی،جن میں سے چوہدری سرو ر، ہارون اختر خان، نزہت صادق اور سعدیہ عباسی منتخب ہوگئے ہیں، جبکہ زبیر گل اور kauda بابر رہ گئے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کامیاب ہونے والے سینٹرز کی آئینی اور قانونی پوزیشن سے آگا ہ کریں تو انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے معلومات آئی ہیں کہ نزہت صادق نے برطانیہ کی شہریت چھوڑدی ہے، سعدیہ عباسی کا بیان حلفی ہے کہ انہوںنے 7فروری 2018کو امریکا کی شہریت چھوڑ دی ہے، ہارون اختر خان نے بھی بیان حلفی دیا ہے کہ میں پاکستان کا شہری ہوں اور دہری شہریت کا حامل نہیں ہوں، سرور خان کی جانب سے بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی برطانیہ کی شہریت ترک کردی ہے،تاہم فاضل عدالت نے ان کے موقف سے عدم اتفاق کرتے ہوئے چوہدری سرور، ہارون اختر خان، نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کونوٹس جاری کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن کوہدایت کی کہ تاحکم ثانی ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جائے۔قبل ازیں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت میں رپورٹ پیش کی کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ماتحت چار گروپ آتے ہیں، ڈی ایم جی، پی ایس پی، آفس منیجمنٹ گروپ اور سیکرٹریٹ گروپ،ان میں 17ویں سکیل سے اوپر کے کل 2646افسران ہیں،2616کی رپورٹ آگئی ہے جن میں سے 13دہری شہریت کے حامل ہیں جبکہ 30نے اپنی دہری شہریت کے حوالے سے تاحال نہیں بتایا،باقی آکو پیشنل گروپ 1oہیںجنکے افسران کی تعداد 6ہزار کے لگ بھگ ہے ان میں سے صرف 12دہری شہریت کے حامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی رپورٹ کے مطابق وہاں پر 64،کے پی میں 18،سندھ 5،بلوچستان 8،آزاد جموں و کشمیر 28اور گلگت و بلتستان میں صرف ایک افسر دہری شہریت کا حامل ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا کوئی جج بھی دہری شہریت کا حامل نہیں، تاہم ضلعی عدلیہ کے کچھ ججز سامنے آئے ہیںانہوںنے کہا کہ ابھی تک نہیں معلوم کہ دہری شہریت رکھناجرم ہے یا نہیں؟ لیکن یقین ہے کہ دہری شہریت والے افراد کیلئے کسی بھی وقت پاکستان اور دوسرے ملک کے حوالے سے مفادات کاٹکرا ئوہوسکتا ہے،ہوسکتا ہے کسی کے پاس پاکستان کے راز ہوں یا کسی کیخلاف نیب میں مقدمات چل رہے ہوں، نقیب اللہ قتل کیس کے ملزم،سابق ایس ایس پی،رائو انوار کا معاملہ بھی دیکھنا ہے، اس کے پاس اقامہ ہے، وہ دہری شہریت میں آتا ہے یا نہیں؟ انہوںنے کہا کہ اگر دہری شہریت ظاہر نہ کرنے والا سرکاری افسر پکڑا گیا تو وہ سرکاری افسر نہیں رہے گا، عدالت کے استفسار پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ وفاق میں کل43 ڈویژن ہیں جن میں22 کے قریب وزارتیں شامل ہیں،جس پر عدالت نے وقفہ کرتے ہوئے تمام سیکرٹریوں کو بھی طلب کرلیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں