آپ آف لائن ہیں
اتوار دو شوال المکرم 1439ھ 17؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے جن لوگوں کو تکلیف ہے وہ پہلے اپنے گھر میں جھانکیں اور پھر کسی کو الزام دیں، اس بار جتنے فیئر اور فری الیکشن ہوئے، ماضی میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے،انہوں نے سندھ سے منتخب ہونے والے سینیٹرز کو مبارکباد بھی پیش کی،تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیر کو فاتحہ خوانی کے فوری بعد اسپیکر آغا سراج درانی نے ڈاکٹر سکندر میندھرو کو سینیٹ کا رکن منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی، انہوں نے کہاکہ وہ ہمارے موجودہ وزیر اور پرانے پارلینٹیرینز ہیں،اب وہ کچھ دنوں کے یہاں مہمان ہیں اور کچھ دنوں بعد وہ اس اسمبلی کو چھوڑ کر سینیٹ میں چلے جائیں گے، جس وقت آغا سراج درانی ڈاکٹر سکندر میندھرو کو مبارکباد دے رہے تھے ، درمیان میں ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی محفوظ یار خان نے اپنی نشست سے اٹھ کر پوائنٹ آف آرڈر پر کچھ کہنا چاہا لیکن اسپیکر نے انہیں ہدایت کی کہ وہ کوئی بات کر رہے ہیں اس لیے ابھی بیٹھ جائیں لیکن محفوظ یار خان اپنی نشست پر نہیں بیٹھے اور وہ مسلسل بولتے رہے ، جس پر ان کا مائیک بند کر دیا گیا اور اسپیکر نے انہیں انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ یہاں پڑھے لکھے لوگ منتخب ہو کر آ جاتے ہیں لیکن انہیں قانون اور قواعد و ضوابط

x
Advertisement

کا کچھ علم نہیں ہے اور وہ ہاؤس کا تقدس بھی برقرار نہیں رکھتے حالانکہ قواعد کے تحت کوئی بھی رکن اس وقت بات کر سکتا ہے جب اسپیکر اسے بولنے کی اجازت دے، انہوں نے محفوظ یار خان سے کہا کہ اگر وہ واک آؤٹ کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے کریں ، باہر جا کر چائے پئیں، سگریٹ نوشی کریں اور گٹکا کھائیں ،آپ کی مرضی ہے جو دل چاہے کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں