آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ کے وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا ہے کہ کے ۔4 منصوبہ اب 2019 کے وسط میں مکمل ہو گا ،منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، 40فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، منصوبے کی تکمیل میں 2یا 4ماہ کی تاخیر مختلف وجوہات کے باعث ہو رہی ہے،پیر کو سندھ اسمبلی میں محکمہ بلدیات سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایف ڈبلیو او کے تحت جو معاہدہ طے پایا تھا ، اس کے تحت منصوبے کی مقررہ مدت جون 2018 تھی لیکن بعض وجوہات کے باعث اب یہ منصوبہ 2019 کے وسط میں مکمل ہو گا،انہوں نے کہا کہ 120 کلو میٹر دور سے شہر میں پانی لانا کوئی معمولی کام نہیں ہے،منصوبے کے تحت کراچی میں تین فلٹر پلانٹس پپری ، سپرہائی وے نزد بقائی اسپتال اور منگھوپیر کے علاقے میں لگائے جائیں گے ، جہاں پہلے پانی فلٹر ہو گا ، پھر لوگوں کو مہیا کیا جائے گا،انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کا سہرا سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ اور اس وقت کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ کو جاتا ہے ، جنہوں نے انتھک کوششوں کے نتیجے میں یہ منصوبہ شروع کیا اور ایف ڈبلیو او جیسے ادارے کے ساتھ معاہدے کو عملی جامہ پہنایا،منصوبے پر اب تک 7ارب 80 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں ، جن میں سے 5 ارب 20 کروڑ روپے سندھ حکومت کے اور وفاقی حکومت

کے 6 ارب 40 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم وفاقی حکومت کے پاس جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ سندھ وفاق کو 70 فیصد ٹیکس دینے والا صوبہ ہے،کے ۔4منصوبے کے لیے جو بھی اخراجات ہو رہے ہیں ، وفاقی حکومت اپنے وعدے کے مطابق تمام مدوں میں 50 فیصد اپنا حصہ ادا کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں