آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍شوال المکرم 1439ھ 20؍جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اللہ تعالی نے اس کائنات میں کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہر چیز کے پیدا کرنے میں خالق کائنات کی حکمت ہے، تخلیق کے جس سرمدی لمحے انسان کو زندگی ملی وہ کائنات کی تکمیل کا لمحہ تھا زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب خدا نے انسان کی خاطر بنایا اور سب کو انتظار میں رکھا پھر جب انسان کو وجود بخشا تو گویا سب کو منزل مل گئی اور سب اس کے تابع آگئے یوں باری تعالی نے انسان کو بحر و بر کی حکمرانی بخشی انسان کو اللہ تعالی نے پانی، مٹی سے پیدا کیا ہے۔ تمام انسانوں کو ایک مرد و عورت حضرت آدم و حضرت حوا سے پیدا کیا اور سب آدم علیہ اسلام کی اولاد ہیں، قرآن مجید میں اللہ تبارک تعالی فرماتا ہے کہ اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گئے اور اسی سے پھر تمیں دوبارہ نکال کھڑا کریں گے، بے شک ہم نے انسان کو مٹی کے جوہراور ایک نطفہ سے پیدا کیا اور اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکرا بنایا اور اس میں روح ڈالی اور اسی وقت انسان کی زندگی، موت رقم کر دی گئی، خالق کائنات فرماتا ہے کہ اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے تا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو، اس لئے کُنبے، قبیلے بنائے گئے ہیں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ مُتقی پرہیزگار ہے،اگر تخلیق

x
Advertisement

کائنات کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات ہستی کا ہر وجود تخلیق بلا شک و شُبہ بامقصد ہے موجودات عالم کا کوئی ذرہ ایسا نہیں ہے جو بلا وجہ و بے مقصدہو۔ رب تعالی فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے بلکہ زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس کی یاد الہی سے غافل نہیں ہیں اور تخلیق انسان و کائنات پر غور و فکر تدبر کرتے ہیں وہ بے ساختہ پُکار اُٹھتے ہیں اے ہمارے رب تُو نے سب کچھ بے مقصد و بے کار پیدا نہیں کیا، اللہ تعالی اپنی نورانی کتاب قرآن مجید کی سورہ آل عمران میں فرماتا ہے کہ ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ محض بے مقصد و اتفاقیہ نہیں ہے بلکہ ہم نے تو کائنات کی ہر چیز کو بامقصد پیدا کیا ہے اور خاص حکمت و مصلحت کے تحت بنایا ہے لیکن اکثر لوگ اس راز حقیقت سے بے خبر و لا علم ہیں اللہ تعالی ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے کہ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز ایک مخصوص حکمت کے مطابق اور ایک متعین مُدت کے لئے اپنا کام کر رہی ہے باری تعالی کا کوئی بھی فعل حکمت سے خالی نہیں ہے کسی چیز میں مالک کائنات کی پوشیدہ حکمت الہی ہماری سمجھ سے بالا تر ہو اور ہماری عقل اُسے سمجھنے سے قاصر ہو تو اس سے ہماری عقل کا ناقص ہونا ثابت ہوتا ہے اللہ کی کوئی بھی تخلیق بے کار و بے مقصد قرار نہیں دی جا سکتی تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کائنات کی سب سے اشرف و افضل مخلوق اشرف المخلوقات انسان کو یوں بے کار بے مقصد بناتا اور انسان کومحض موج و مستی کھانے پینے کمانے کیلئے پیدا نہیں کیا گیا، حیات انسانی کو بامقصد پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالی نے زندگی موت کو پیدا کیا تا کہ تمیں آزمائے کہ تم میں سے بہترکون ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں نے جن و انس کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے تا کہ وہ عبادت کر کے میرا قُرب و عرفان حاصل کر سکیں جو انسان اللہ کی عبادت سے غافل ہے وہ انسانی روپ میں چوپائے کی مانند ہے حقوق اللہ و حقوق العباد کو پُورا کرنے والا انسان ہی قُرب الہی کا مستحق قرار پاتا ہے اللہ کی بندگی و احکامات کی بجاآوری سے غافل انسان ایک کامل انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا، اللہ تعالی فرماتا ہے اس انسان کی مثال چوپائے جیسی ہے وہ بظاہر انسان نظر آتا ہے مگر دراصل اس کی روزمرہ سرگرمیاں چوپائوں جیسی ہیں انسان کو اپنی تخلیق کے مقصد اشرف المخلوقات ہونے کی اہمیت فضیلت کو سمجھنا اور جاننا ہو گا اللہ اور اس کے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کر کے قُرب الہی حاصل کرنا ہے دنیا کے روز مرہ معاملات کو اللہ کے حکم کے مطابق پورا کر کے روز محشر میں سزا سے نجات حاصل کرنا ہے۔ انسان کواپنی تخلیق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی تخلیق کے مقصد کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور اپنے خالق کی عبادت کر کے اس کی خوشنودی و رضا حاصل کرنی چاہئے دنیا کے روز مرہ معاملات میں بھی خوف خدا کو مدنظر رکھتے ھوئے مخلوق خداکی خدمت کر کےباری تعالی کا قُرب حاصل کر کے دونوں جہاں میں کامیابی و کامرانی سے سرفراز ہونا چاہئے، انسان دنیا میں اپنے خالق کے تابع ہے اور اس کی اطاعت و فرمانبردار ی میں رہے زندگی کے ہر معاملہ میں اپنے مالک کی مشیت کو پیش نظر رکھے، اللہ کے احکامات کو پورا کرتے ہوئے زندگی گزارے، دُکھی انسانیت کی خدمت کو زندگی کا نصب العین بنا لے تا کہ وہ دُکھی انسانیت کی خدمت کر کے انسانیت کی معراج کو پہنچ سکے انسان جب اپنے مالک کی مرضی کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو پھر اس کا مالک بھی خوش ہو جاتا ھے کیونکہ اس کی تخلیق انسان کا مقصد پورا ہوتا ہے، انسان کی اپنی مرضی نہیں چلتی مالک و خالق کی مرضی چلتی ہے اگر انسان اپنی مرضی کے مطابق اپنے روز مرہ معاملات چلائے تو قوی خدشہ ہے کہ وہ راہ راست سے بھٹک کر خیر سے دور ہو جائے مگر جو انسان اپنی تخلیق کے مقصد کو نہ بھولے اور اپنے خالق کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے وہ خیر کے قریب ہو کر اپنے خالق کا قُرب حاصل کرتا ہے اور وہ ہی کامیاب انسان ہے اور وہ ہی متقی پرہیز گار ہوتا ہے، اللہ کے فضل و کرم کے نور کے خزانے حاصل کرتا ہے پھر اس کی زبان پر ہمہ وقت یہی ہوتا ھے کہ اے مالک میں نے تخلیق انسان کے راز کو جان لیا ہے —جی ویں پیارا راضی رہوے مرضی کنگ دھن دی جے تُو مرضی اپنے لوریں اے گل کدے نییں بندی، عارف کھڑی رحمۃ اللہ علیہ نے اس شعر میں مالک کی مرضی کو نمایاں کر کے انسانیت کو یہ پیغام دیا ہے کہ مالک کی مرضی کے مطابق چلنے والا انسان ہی دونوں جہانوں میں کامیاب ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں