آپ آف لائن ہیں
اتوار دو شوال المکرم 1439ھ 17؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن (جنگ نیوز) برطانیہ نے روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کی وجہ سے اپنے آر اے ایف کے جاسوس طیاروں کا پورا فلیٹ ایسٹرن یورپ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس نے پولینڈ اور لیتھوانیا کی سرحدوں کے ساتھ روس کے زیر کنٹرول ایریاز میں میزائل نصب کردیے ہیں۔ لیتھوانیا کے صدر کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ صرف لیتھوانیا کے لیے نہیں بلکہ آدھے یورپ کے لیے ہے۔ 300میل رینج کے میزائلوں کی تنصیب سے نیٹو چیفس میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور یہ خدشات پیدا ہورہے ہیں کہ روس بالٹک ریاستوں میں فورسز کو موو کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ آر اے ایف کے طیارے روسی فوجیوں کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کے لیے دیگر یورپی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ رائل ویلش رجمنٹ کے1000سے زائد فوجی کوئنز ڈریگون گارڈز کے ساتھ ساتھ600رکنی آر اے ایف ایئر کریو اور سپورٹ پرسونل ایسٹونیا پولینڈ اور رومانیہ میں موجود ہیں۔ آر اے ایف کے5جاسوس طیارے بشمول آر سی135ریوٹ جوائنٹ ریجن میں موجود ہیں۔ آر اے ایف سینئر ذرائع نے کہا کہ شام سے تمامISRایئر کرافٹ صلاحیتوں کو اب ریموو کردیا گیا جہاں ان کو زمینی خطرات کو مانیٹر کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ہمارے پاس بیک وقت دو بڑےISRآپریشنز جاری رکھنے کے لیے ایئر فریم وسائل نہیں ہیں۔ ان کے لیے روٹین مینٹیننس

x
Advertisement

اور دیگر کریو کی ضرورت ہوتی ہے۔ کومبیٹ ایئر پاور ایکسپرٹ جسٹن برونک نے کہا کہ روس کی جانب سے اسکندر میزائل کی تنصیب نیٹو کے لیے براہ راست پیغام ہے۔ نیٹو اس کا مطلب بخوبی سمجھتی ہے اور برطانیہ نےISRکو وہاں بھیجنے کا درست اقدام کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں