آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن (جنگ نیوز) غیر ضروری اے اینڈ ای وزٹ سے بچنے کے لیے لندن کے شہریوں کی این ایچ ایس111سروس استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ لندن کے768-404شہری ہر سال اے اینڈ ای جاتے ہیں، جن کی این ایچ ایس111سروس سے مدد کی جاسکتی ہے۔ لندن کے شہریوں پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ این ایچ ایس111کی سروس سے مدد حاصل کرکے غیر ضروری طور پر اے اینڈ ای جانے سے بچ سکتے ہیں جو پہلے کے مقابلے میں وسیع رینج کی کلنیکل سروسز پیش کرتی ہے جن میں جی پیز، نرسوں، مڈوائیوز، فارمسٹس اور ذہنی صحت، کینسر اور چائلڈ ہیلتھ کے ماہرین سے براہ راست رسائی شامل ہے پن میڈیکل سینٹر لندن کے جی پی ڈاکٹر ماٹھی ووڈ ہائوس کا کہنا ہے کہ میرے بہت سارے مریض بتاتے ہیں کہ اگر انہیں اس سروس کا علم ہوتا تو وہ مصروف اے اینڈ ای میں طویل انتظار کے بجائے سروس استعمال کرتے۔ ہم لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد کررہے ہیں کہ سروس کس طرح ان کی مدد کرکے اے اینڈ ای کے غیر ضروری وزٹ سے بچاسکتی ہے۔ جس سے ہسپتالوں کی مدد ہوگی۔ مریض اپنے گھر کے قریب معیاری کلنیکل ایڈوائس چاہتے ہیں اور وہ اس کا حصول این ایچ ایس111سے کرسکتے ہیں۔ لندن کے ایک شہری ہمنجین بھاٹیہ نے بتایا کہ انہوں نے این ایچ ایس111کو بہت مددگار پایا۔ کال ہینڈل کرنے والے شخص نے کچھ سوالات کیے اور پھر ہلنگڈن

ہاسپٹل میں اپائنمنٹ دے دیا، جس سے وہ اے اینڈ ای جانے سے بچ گئے۔ بچے کا فوری علاج ہوگیا اور وہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ سروس سے مدد لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ایک اور شہری مالا کماری نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت مدد طلب کی جب رات کے وقت ان کے بچے کو مشکل سے سانس آرہی تھی۔ علامات کے بارے میں پوچھنے کے بعد کال ہینڈل کرنے والے نے ایک ایمبولین بھیج دی او ران کے بیٹے کو ہسپتال میں داخلہ مل گیا، وہ جلد ہی علاج کا ایسا انتظام کرنے پر سروس کی ٹیم کی مشکور ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں